منگلورو ،7؍ اکتوبر (ایس او نیوز) مذہبی اور فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کرنے والی تقایر کرنے والی معروف چئیترا کنداپور کے خلاف سورتکل پولیس اسٹیشن میں درج شکایتوں پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کیے ہیں ۔
یاد رہے کہ 4 اکتوبر کو بجرنگ دل اور دُرگا واہنی کے اشتراک سے ہندووں میں بیداری کے نام پر منعقدہ ایک بہت بڑے اجلاس میں کلیدی خطاب کرتے ہوئے چئیترا کنداپور نے کہا تھا : خاص مقصد سے نوجوانوں کو تبدیلی مذہب کے جال میں پھانسنے والے جہادیوں کو اب "دُرگا واہینی" کارکنان کی طرف سے پلٹ وار کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ ہندو جانتے ہیں کہ ان حرکتوں کے جواب میں مسلم لڑکیوں کو کیسے پھانسنا ہے، پیار کے نام پر ان کا مذہب کیسے تبدیل کروانا ہے اور ان کے ماتھوں پر بِندی لگوانا ہے ۔ ہندو سماج 'لوجہاد' اور تبدیلی مذہب کے خلاف لڑنے سے کبھی باز نہیں آئے گا ۔"
اس اجلاس میں چئیترا نے اور بھی بہت سی باتیں کہیں تھیں اور اسٹیج پر موجود ہندوتواوادی لیڈروں نے بھی مسلمانوں کے خلاف بہت زیادہ زہر اگلا تھا ۔
اسی پس منظر میں بونڈلا چترنجن شیٹی نے سورتکل پولیس اسٹیشن میں پہلی شکایت درج کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنے خطاب کے دوران چئیترا کنداپور نے فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کرنے والی باتوں کے علاوہ تُلو دیومالائی شخصیت کوٹی اور چینئیا کے خلاف بھی ایسے ریمارکس کیے ہیں جس سے ان کی تذلیل ہوتی ہے اس وجہ سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا ہے ۔ چترنجن شیٹی نے کہا ہے کہ چئیترا کی تقریر میں ایک فرقہ کو دوسرے سے لڑنے پر آمادہ کرنے والا پورا مواد موجود ہے ۔ اس سے علاقہ کے امن و امان کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
اس سلسلے کی دوسری شکایت عبدالقادر نامی شخص نے درج کروائی ہے جس میں چئیترا کی طرف سے کیے گئے خطاب کو فرقہ وارانہ اشتعال سے بھرپور قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
اس کے علاوہ جنتا دل ایس ڈسٹرکٹ یوتھ صدر اکشیت سوورنا نے بھی پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اشتعال انگیز خطاب کرنے والی چیترا کنداپور قانونی کارروائی کی جائے ۔